Sunday, 11 December 2016

موجود ہیں کتنے ہی تجھ سے بھی حسیں کر کے

موجود ہیں کتنے ہی، تجھ سے بھی حسیں کر کے
جھٹلا دیا آنکھوں کو، میں دل پہ یقیں کر کے
جس چشم سے رندوں میں ہُو حق ہے، اسی نے تو
زاہد کو بھی رکھا ہے، محراب نشیں کر کے
کیا اس کی لطافت کا، احوال بیاں کیجیے
جو دل پہ ہوا ظاہر، آنکھوں کو نہیں کر کے
کچھ کم تھا بلاۓ جاں یہ چہرہ کہ اوپر سے
آنکھیں بھی بنا لاۓ، غارت گرِ دِیں کر کے
سو داغ ہیں سینے میں، وہ داغِ جدائی بھی
دیکھوں تو ذرا ہو گا ان میں ہی کہیں کر کے
اس دل کا تو نقشہ ہی، دنیا نے بدل ڈالا
کچھ یاد ہے رہتا تھا وہ بھی تو یہیں کر کے

احمد جاوید

No comments:

Post a Comment