دل بے تاب کے ہمراہ سفر میں رہنا
ہم نے دیکھا ہی نہیں چین سے گھر میں رہنا
سوانگ بھرنا کبھی شاہی، کبھی درویشی کا
کسی صورت سے مجھے اس کی نظر میں رہنا
ایک حالت پہ بسر ہو ہی نہیں سکتی میری
دن میں ہے فکر پس اندازئ سرمایۂ شب
رات بھر کاوشِ سامانِ سحر میں رہنا
دل سے بھاگے تو لیا دیدۂ تر نے گویا
آگ سے بچ کے نکلنا تو بھنور میں رہنا
اہلِ دنیا بہت آرام سے رہتے ہیں مگر
کب میسر ہے تِری راہگزر میں رہنا
وصل کی رات گئی، ہِجر کا دن بھی گزرا
مجھے وارفتگئ حالِ دِگر میں رہنا
کر چکا ہے کوئی افلاک و زمیں کی تکمیل
پھر بھی ہر آن مجھے عرضِ ہنر میں رہنا
احمد جاوید
No comments:
Post a Comment