Sunday, 11 December 2016

کوئی پھل درختوں میں آیا نہیں

کوئی پھل درختوں میں آیا نہیں
پرندہ کہیں چہچہایا نہیں
مکاں خالی کرنے ہی والا ہوں میں
میری جیب میں اب کرایا نہیں
مِرا سوٹ سب سے حسیں تھا میاں
مجھے جشن میں کیوں بلایا نہیں 
سنا تھا خدا آئے گا ایک دن
میری زندگی میں تو آیا نہیں
بڑی دیر تک دنوں روتے رہے
وجہ کیا تھی، کچھ بھی بتایا نہیں
کسی بھی حکومت نے آج تک
محبت کا سکہ چلایا نہیں
ندی تیرا پانی ہے کیوں بے وفا
شجر بول! کیوں تجھ میں سایا نہیں
اسے میں نے بچپن میں دیکھا تھا اشکؔ
بڑھاپے میں بھی ہوش آیا نہیں 

پروین کمار اشک

No comments:

Post a Comment