کوئی پھل درختوں میں آیا نہیں
پرندہ کہیں چہچہایا نہیں
مکاں خالی کرنے ہی والا ہوں میں
میری جیب میں اب کرایا نہیں
مِرا سوٹ سب سے حسیں تھا میاں
سنا تھا خدا آئے گا ایک دن
میری زندگی میں تو آیا نہیں
بڑی دیر تک دنوں روتے رہے
وجہ کیا تھی، کچھ بھی بتایا نہیں
کسی بھی حکومت نے آج تک
محبت کا سکہ چلایا نہیں
ندی تیرا پانی ہے کیوں بے وفا
شجر بول! کیوں تجھ میں سایا نہیں
اسے میں نے بچپن میں دیکھا تھا اشکؔ
بڑھاپے میں بھی ہوش آیا نہیں
پروین کمار اشک
No comments:
Post a Comment