Sunday, 11 December 2016

کل وہ دریا یہیں تو بہتا تھا

کل وہ دریا یہیں تو بہتا تھا
جس میں ہنسوں کا جوڑا رہتا تھا
اسکے گھر بھی تھا نیک بیوی تھی
جانے کیوں ہوٹلوں میں رہتا تھا 
پہلے اندر دعا بھی ہوتی تھی
پہلے اندر خدا بھی رہتا تھا
زخم بادل کے رِستے رہتے تھے
دیر تک خون گِرتا رہتا تھا
چڑیا بے چاری دانہ کیا چنتی
چھت پہ اک باز بیٹھا رہتا تھا
کھول دیتا تھا حسن بھی کھڑکی
عشق بھی آتا جاتا رہتا تھا
آج مجھ کو بڑا سیانا لگا
اشکؔ اک بچہ مجھے میں رہتا تھا

پروین کمار اشک

No comments:

Post a Comment