کل وہ دریا یہیں تو بہتا تھا
جس میں ہنسوں کا جوڑا رہتا تھا
اسکے گھر بھی تھا نیک بیوی تھی
جانے کیوں ہوٹلوں میں رہتا تھا
پہلے اندر دعا بھی ہوتی تھی
زخم بادل کے رِستے رہتے تھے
دیر تک خون گِرتا رہتا تھا
چڑیا بے چاری دانہ کیا چنتی
چھت پہ اک باز بیٹھا رہتا تھا
کھول دیتا تھا حسن بھی کھڑکی
عشق بھی آتا جاتا رہتا تھا
آج مجھ کو بڑا سیانا لگا
اشکؔ اک بچہ مجھے میں رہتا تھا
پروین کمار اشک
No comments:
Post a Comment