اک دِیا عشق کا جلا دینا
باقی سب بتیاں بجھا دینا
پاؤں چھونا سبھی بزرگوں کے
سارے بچوں کو تُو دعا دینا
صرف محسوس کرنا خوشبو کو
جن غریبوں سے ہے خدا ناراض
ان غریبوں کو آسرا دینا
وہ جہاں ہو گا لوٹ آئے گا
اس کو چاروں طرف صدا دینا
باغ کے سُوکھنے سے پہلے ہی
خوشبوؤں کو کہیں چھپا دینا
میٹھے سیبوں کے باغ میں پیارے
نِیم کے پیڑ مت لگا دینا
رات کے ساتھ جا رہا ہوں میں
چاندنی آئے تو بتا دینا
شام للکارنا چراغ کا اشکؔ
صبح سورج کا مسکرا دینا
پروین کمار اشک
No comments:
Post a Comment