جو ذکر حق تھا اسے داستاں کہنے لگے
زمانے والے یقیں کو گماں کہنے لگے
عذابِ در بدری اس قدر ہوا ہم پر
کہ سخت دھوپ کو ہم سائباں کہنے لگے
کچھ ایسا کٹ گیا رشتہ کھلی فضاؤں سے
یہ کس نے چھین لی ساری برساتیں ہم سے
جو خشک گھاس کو ہم زعفران کہنے لگے
انور جلال پوری
No comments:
Post a Comment