Saturday, 24 December 2016

جو ذکر حق تھا اسے داستاں کہنے لگے

جو ذکر حق تھا اسے داستاں کہنے لگے
زمانے والے یقیں کو گماں کہنے لگے
عذابِ در بدری اس قدر ہوا ہم پر
کہ سخت دھوپ کو ہم سائباں کہنے لگے
کچھ ایسا کٹ گیا رشتہ کھلی فضاؤں سے
اسیرِ کنجِ قفس کو ہم مکاں کہنے لگے
یہ کس نے چھین لی ساری برساتیں ہم سے
جو خشک گھاس کو ہم زعفران کہنے لگے

انور جلال پوری

No comments:

Post a Comment