قیامت ہے سرِ بالیں وہ زلفوں کا بکھر جانا
مِری آشفتگی پر ان کے چہرے کا اتر جانا
خود اپنے سایہ سے وہ ہر قدم پر ان کا ڈر جانا
اور اس معصومیت پر سادگی پر میرا مر جانا
لبِ بام آفتاب آیا، تو غفلت سے نقاب اٹھی
لبِ ساحل کو بوسہ دے کے یوں ڈوبی مِری کشتی
کسی کا جس طرح ہاں کہہ کے پھِر جانا مُکر جانا
جوانی بدگماں ہوتی ہے لیکن اس قدر بسملؔ
کہ آئینے میں اپنے روبرو ہوتے ہی ڈر جانا
بسمل دہلوی
No comments:
Post a Comment