اب ان سے وہ ملاقاتیں کہاں ہیں
مری قسمت میں وہ راتیں کہاں ہیں
پیا کرتے تھے جب چھپ چھپ کے باہم
وہ پیاری چاندنی راتیں کہاں ہیں
وہ میری بے خودی وہ ان کی مستی
ملا کرتے تھے جب وہ خلوتوں میں
اب ایسی مدھ بھری راتیں کہاں ہیں
جوانی جن سے وابستہ تھی بسملؔ
وہ راتیں ہائے وہ راتیں کہاں ہیں
بسمل دہلوی
No comments:
Post a Comment