Monday, 5 December 2016

اب ان سے وہ ملاقاتیں کہاں ہیں

اب ان سے وہ ملاقاتیں کہاں ہیں
مری قسمت میں وہ راتیں کہاں ہیں
پیا کرتے تھے جب چھپ چھپ کے باہم
وہ پیاری چاندنی راتیں کہاں ہیں
وہ میری بے خودی وہ ان کی مستی
وہ بادہ ریز برساتیں کہاں ہیں
ملا کرتے تھے جب وہ خلوتوں میں
اب ایسی مدھ بھری راتیں کہاں ہیں
جوانی جن سے وابستہ تھی بسملؔ
وہ راتیں ہائے وہ راتیں کہاں ہیں

بسمل دہلوی

No comments:

Post a Comment