کوئی تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے
میں بہت دور ہوں نزدیک بلاتا ہے مجھے
میں نے محسوس کِیا شہر کے ہنگامے میں
کوئی صحرا میں ہے، صحرا میں بلاتا ہے مجھے
اے مکینِ دل و جاں! میں تیرا سناٹا ہوں
اے میرے حالِ پریشاں! کے نگہ دار یہ کیا
کس قدر دور سے آئینہ دکھاتا ہے مجھے
تُو کہاں ہے کہ تِری زلف کا سایہ سایہ
ہر گھنی چھاؤں میں لے جا کے بٹھاتا ہے مجھے
رحم کر میں تِری مژگاں پہ ہوں آنسو کی طرح
کس قیامت کی بلندی سے گِراتا ہے مجھے
شاؔذ اب کون سی تحریر کو تقدیر کہوں
کوئی لکھتا ہے مجھے، کوئی مٹاتا ہے مجھے
شاذ تمکنت
No comments:
Post a Comment