کیا کروں رنج گوارہ نہ خوشی راس مجھے
جینے دے گی نہ مِری شدتِ احساس مجھے
میں کسی بزم کے قابل نہ رہا تیرے بعد
ہنس پڑا ہوں تو ہُوا جرم کا احساس مجھے
ہم نے اک دوسرے کو پُرسۂ فُرقت نہ دِیا
ایک ٹھہرا ہُوا دریا ہے مِری آنکھوں میں
جانے کس گھاٹ پہ مارے گی تِری پیاس مجھے
ریزہ ریزہ ہُوا جاتا ہے مِرا سنگ وجود
یوں صدا دے نہ پسِ پردۂ انفاس مجھے
جیسے پہلوئے طرب میں کوئی نشتر رکھ دے
آج تک یاد ہے تیری نگہِ یاس مجھے
شاخ سے برگِ چکِیدہ کا تقاضہ جیسے
کچھ اسی طرح ابھی تک ہے تِری آس مجھے
روح کے دشت میں اک ہُو کا سماں ہے اے شاؔذ
دے گیا کون بھرے شہر میں بَن باس مجھے
شاذ تمکنت
No comments:
Post a Comment