Thursday, 8 December 2016

کیا کروں رنج گوارہ نہ خوشی راس مجھے

کیا کروں رنج گوارہ نہ خوشی راس مجھے 
جینے دے گی نہ مِری شدتِ احساس مجھے
میں کسی بزم کے قابل نہ رہا تیرے بعد 
ہنس پڑا ہوں تو ہُوا جرم کا احساس مجھے
ہم نے اک دوسرے کو پُرسۂ فُرقت نہ دِیا 
میری خاطر تھی تجھے اور تِرا پاس مجھے
ایک ٹھہرا ہُوا دریا ہے مِری آنکھوں میں
جانے کس گھاٹ پہ مارے گی تِری پیاس مجھے
ریزہ ریزہ ہُوا جاتا ہے مِرا سنگ وجود 
یوں صدا دے نہ پسِ پردۂ انفاس مجھے
جیسے پہلوئے طرب میں کوئی نشتر رکھ دے
آج تک یاد ہے تیری نگہِ یاس مجھے
شاخ سے برگِ چکِیدہ کا تقاضہ جیسے
کچھ اسی طرح ابھی تک ہے تِری آس مجھے
روح کے دشت میں اک ہُو کا سماں ہے اے شاؔذ 
دے گیا کون بھرے شہر میں بَن باس مجھے

شاذ تمکنت

No comments:

Post a Comment