اسی یقین سے خود کو غزل کی صورت دی
سنوں گا تجھ سے اگر زندگی نے مہلت دی
لیے ہیں چند پرندے فقط کفالت میں
وہی کیا جو میری جیب نےاجازت دی
سجے ہوۓ ہیں جو دل میں ظروف زخموں کے
نکالنے کے لیے دل سے ان کہی باتیں
کبھی زباں کو کبھی آنسوؤں کو زحمت دی
ہوۓ ہیں اس لیے سب رنگ مہرباں مجھ پر
مِرے خلوص کی تصویر نے ضمانت دی
میں صرف کرتا ہوں مصرعوں کی میزبانی پر
خدا نے جتنی بھی توفیق و استطاعت دی
بلا کا غیض تھا اس کے خلاف آنکھوں میں
جس آئینے نے مجھے خوشگوار حیرت دی
کسی سے ملتے ملاتے نہیں خیال مِرے
اس اعتراف نے میرے سخن کو شہرت دی
نہیں تھا کوئی بھی جو ہاتھ روکتا اس کا
جب اس نے بے زباں دیوار کو اذیت دی
کسی نے کر کےعطا حسرتوں کے پھول مجھے
رگِ گلو میں پرونے کی بھی ہدایت دی
کسی نے جب بھی قلمزد کیا لکھا میرا
نکل کے لفظ سےمعنی نےخود وضاحت دی
میں اپنے دائرہِ فن سے مطمئن تھا کبیؔر
مِرے جنوں نے سخن کی حدوں کو وسعت دی
کبیر اطہر
No comments:
Post a Comment