Saturday, 24 December 2016

اسی یقین سے خود کو غزل کی صورت دی

اسی یقین سے خود کو غزل کی صورت دی
سنوں گا تجھ سے اگر زندگی نے مہلت دی
لیے ہیں چند پرندے فقط کفالت میں
وہی کیا جو میری جیب نےاجازت دی
سجے ہوۓ ہیں جو دل میں ظروف زخموں کے
پسند اس نے کئے میں نے صرف قیمت دی
نکالنے کے لیے دل سے ان کہی باتیں
کبھی زباں کو کبھی آنسوؤں کو زحمت دی
ہوۓ ہیں اس لیے سب رنگ مہرباں مجھ پر
مِرے خلوص کی تصویر نے ضمانت دی
میں صرف کرتا ہوں مصرعوں کی میزبانی پر
خدا نے جتنی بھی توفیق و استطاعت دی
بلا کا غیض تھا اس کے خلاف آنکھوں میں
جس آئینے نے مجھے خوشگوار حیرت دی
کسی سے ملتے ملاتے نہیں خیال مِرے
اس اعتراف نے میرے سخن کو شہرت دی
نہیں تھا کوئی بھی جو ہاتھ روکتا اس کا
جب اس نے بے زباں دیوار کو اذیت دی
کسی نے کر کےعطا حسرتوں کے پھول مجھے
رگِ گلو میں پرونے کی بھی ہدایت دی
کسی نے جب بھی قلمزد کیا لکھا میرا 
نکل کے لفظ سےمعنی نےخود وضاحت دی
میں اپنے دائرہِ فن سے مطمئن تھا کبیؔر
مِرے جنوں نے سخن کی حدوں کو وسعت دی

کبیر اطہر

No comments:

Post a Comment