Saturday, 24 December 2016

کیا سمجھ پائیں گے مجھ پیڑ کا آزار میاں

کیا سمجھ پائیں گے مجھ پیڑ کا آزار میاں
مشت بھر خاک کے گملوں میں پڑے یار میاں
اپنے ہونے کی سزا کاٹتے پھرتے ہیں سبھی
کوئی اندر،۔ کوئی باہر سے گرفتار میاں
ڈھل گئی عمر میری شعبدہ بازی والی
اب میرے پاؤں پکڑ لیتے ہیں انگار میاں
خاک اس بیل کی صورت کو ترس جاتی ہے
راس آ جائے جسے موسمِ دیوار میاں
زلزلے رزق بڑھا دیتے ہیں مزدوروں کا
کام فطرت کوئی کرتی نہیں بے کار میاں
لگ گیا شہر کا ہر شخص شجرکاری میں
میں ہوں صحرا سے اجازت کا طلبگار میاں
یہ جو سنتا ہوں توجہ سے میں باتیں اس کی
ہاتھ لگ جاتے ہیں مصرعے مِرے دو چار میاں
جس کی تصویر بنا لیتی ہیں آنکھیں میری 
گھیر لیتی ہے وہ نکتہ میری پرکار میاں
چٹخنی دل نےچڑھا رکھی ہے ہونٹوں پہ کبیؔر
بند اندر سے ہے دروازۂ گفتار میاں

کبیر اطہر

No comments:

Post a Comment