Monday, 19 December 2016

پرایا کون ہے اور کون اپنا سب بھلا دیں گے

پرایا کون ہے اور کون اپنا سب بھلا دیں گے
متاع زندگانی ایک دن ہم بھی لٹا دیں گے
تم اپنے سامنے کی بھیڑ سے ہو کر گزر جاؤ
کہ آگے والے تو ہرگز نہ تم کو راستا دیں گے
جلائے ہیں دیے تو پھر ہواؤں پر نظر رکھو
یہ جھونکے ایک پل میں سب چراغوں کو بجھا دیں گے
کوئی پوچھے گا جس دن واقعی یہ زندگی کیا ہے
زمیں سے ایک مٹھی خاک لے کر ہم اڑا دیں گے
گلہ، شکوہ، حسد، کینہ کے تحفے میری قسمت ہیں
مِرے احباب اب اس سے زیادہ اور کیا دیں گے
مسلسل دھوپ میں چلنا چراغوں کی طرح جلنا
یہ ہنگامے تو مجھ کو وقت سے پہلے تھکا دیں گے
اگر تم آسماں پر جا رہے ہو شوق سے جاؤ
مِرے نقش قدم آگے کی منزل کا پتا دیں گے

انور جلال پوری

No comments:

Post a Comment