فرد نہیں ہجوم ہوں، میرا شمار تو کرو
مجھ کو اسیر تو کرو، مجھ کو شکار تو کرو
شہرِ خزاں اور ہم، ایک دھواں ہے اور ہم
اس تگ و دو میں کم سے کم، ذکرِ بہار تو کرو
لوگ نڈھال ہیں تو کیوں، بے پر و بال ہیں تو کیوں
فرش و گیاہ و بام و در، اب بھی حسین ہیں مگر
صبح سے عشق تو کرو، شام سے پیار تو کرو
ثروت حسین
No comments:
Post a Comment