Saturday, 24 December 2016

اسی کنارہ حیرت سرا کو جاتا ہوں

اسی کنارۂ حیرت سرا کو جاتا ہوں
میں اک سوار ہوں کوہِ ندا کو جاتا ہوں
رمیدگی کا بیاباں ہے اور بے خوروخواب
غبار کرتا، سکوت و صدا کو جاتا ہوں
قریب ہی کسی خیمے سے آگ پوچھتی ہے
کہ اس شکوہ سے کس قرطبہ کو جاتا ہوں
حزر کہ دجلۂ دشوار پر قدم رکھتا
شکار گاہِ فرات و فنا کو جاتا ہوں
کہاں گئے وہ خدایانِ درہم و دینار
کہ اک دفینۂ دشت و بلا کو جاتا ہوں
سفارتِ حدِ حیرانگی پہ ہوں مامور
نگار خانۂِ حسن و ادا کو جاتا ہوں
وہ دن بھی آئے کہ انکار کر سکوں ثروؔت
ابھی تو معبدِ حمد و ثنا کو جاتا ہوں

ثروت حسین

No comments:

Post a Comment