Saturday, 24 December 2016

میں اندھیروں میں بھی سنورتا ہوں

میں اندھیروں میں بھی سنورتا ہوں
میں کہاں تیرگی سے ڈرتا ہوں
میں بڑی احتیاط کرتا ہوں
پاؤں جب سیڑھیوں پہ دھرتا ہوں
حق کا پرچم اٹھائے پھرتا ہوں
میں کہاں بات سے مکرتا ہوں
اس کی پرواز آسماں کی طرف
میں تو پاتال میں اترتا ہوں
میں کسی کو برا نہیں کہتا
میں تو انساں سے پیار کرتا ہوں
میرا سایہ ہی میرا دشمن ہے
اپنے سائے سے میں تو لڑتا ہوں
میری ماں کی دعا ہے میرے ساتھ
کب جہاں میں کسی سے ڈرتا ہوں
میں ہوں انوارؔ روشنی کا نشاں
نور بن بن کے میں بکھرتا ہوں

انوار فیروز

No comments:

Post a Comment