میں اندھیروں میں بھی سنورتا ہوں
میں کہاں تیرگی سے ڈرتا ہوں
میں بڑی احتیاط کرتا ہوں
پاؤں جب سیڑھیوں پہ دھرتا ہوں
حق کا پرچم اٹھائے پھرتا ہوں
اس کی پرواز آسماں کی طرف
میں تو پاتال میں اترتا ہوں
میں کسی کو برا نہیں کہتا
میں تو انساں سے پیار کرتا ہوں
میرا سایہ ہی میرا دشمن ہے
اپنے سائے سے میں تو لڑتا ہوں
میری ماں کی دعا ہے میرے ساتھ
کب جہاں میں کسی سے ڈرتا ہوں
میں ہوں انوارؔ روشنی کا نشاں
نور بن بن کے میں بکھرتا ہوں
انوار فیروز
No comments:
Post a Comment