ہم پہ تعزیر یہ رہنے دیجے
آج حق بات بھی کہنے دیجے
لوگ تو یونہی کہا کرتے ہیں
لوگ کہتے ہیں تو کہنے دیجے
سچا خورشید ابھر آئے گا
یہی منزل کا نشاں بھی دے گا
خون رستوں پہ نہ بہنے دیجے
کل نیا محل اٹھا لیجیۓ گا
آج دیوار کو ڈھنے دیجے
انوار فیروز
No comments:
Post a Comment