Friday, 23 December 2016

یہ دور المناک اگر یونہی رہے گا

یہ دورِ الم ناک اگر یونہی رہے گا
آئینے تو مل جائیں گے چہرہ نہ ملے گا
اس سے کسی گلگشت کی امید غلط ہے
وہ فتنہ قیامت ہے، قیامت ہی رہے گا
اس بار بھی آواز یونہی گونج رہی ہے
تلوار کا موسم ہی گلستاں میں رہے گا
مضبوط درختوں کو اڑا لے گئی آندھی
پھر سوختہ سامانوں کو سایہ نہ ملے گا
اے میرے غزالو! میرے آزردہ غزالو
اس وادئ بے نور میں کب چاند اگے گا
دوراؔں مری جاں دشت نوردی ہے ضروری
ورنہ یہ زمانہ تمہیں عاشق نہ کہے گا

اویس احمد دوراں

No comments:

Post a Comment