غم کی چٹان ایک ہی ٹھوکر سے ہٹ گئی
ہم تم قدم ملا کے چلے، راہ کٹ گئی
تم کو بھی کچھ خبر ہے کہ وہ کون لوگ تھے
جن کی دھمک سے آہنی دیوار پھٹ گئی
آؤ کھلی فضا میں ذرا چل کے سانس لیں
یہ پختہ کار لوگ اٹل ہیں، اٹوٹ ہیں
خود موت جن کی راہ میں آ کر پلٹ گئی
دوراؔں اٹھے تھے راہ کے گرد و غبار سے
پھر بھی انہِیں سے یار کی خوشبو لپٹ گئی
اویس احمد دوراں
No comments:
Post a Comment