Friday, 23 December 2016

خزانے بھی ملیں اس کے عوض تو ہم نہ بیچیں گے

خزانے بھی ملیں اس کے عوض تو ہم نہ بیچیں گے
ہمارا غم ہے مظلوموں کا غم یہ غم نہ بیچیں گے
بلا سے دھول پھانکیں یا پرانے چیتھڑے پہنیں
مگر یارو! متاعِ علم و دانش ہم نہ بیچیں گے
کہستانوں سے پتھر کاٹ کر لائیں گے ہم، لیکن
کسی ظالم کے ہاتھوں زخم کا مرہم نہ بیچیں گے
کسی دربار میں جا کر ادب اور فن کی صورت میں
تمہاری عنبریں زلفوں کا پیچ و خم نہ بیچیں گے
گلستاں بیچ کر کھانا ہوس کاروں کا شیوہ ہے
چمن والو! پپیہوں کا ترنم ہم نہ بیچیں گے
ہمارا انقلاب آئے گا جب تو کام آئے گا
ابھی اپنی تمنا کا اجالا ہم نہ بیچیں گے
بھری محفل میں دوراں آج ہم پھر عہد کرتے ہیں
جو ہے انسانیت کی آس وہ پرچم نہ بیچیں گے

اویس احمد دوراں

No comments:

Post a Comment