خزانے بھی ملیں اس کے عوض تو ہم نہ بیچیں گے
ہمارا غم ہے مظلوموں کا غم یہ غم نہ بیچیں گے
بلا سے دھول پھانکیں یا پرانے چیتھڑے پہنیں
مگر یارو! متاعِ علم و دانش ہم نہ بیچیں گے
کہستانوں سے پتھر کاٹ کر لائیں گے ہم، لیکن
کسی دربار میں جا کر ادب اور فن کی صورت میں
تمہاری عنبریں زلفوں کا پیچ و خم نہ بیچیں گے
گلستاں بیچ کر کھانا ہوس کاروں کا شیوہ ہے
چمن والو! پپیہوں کا ترنم ہم نہ بیچیں گے
ہمارا انقلاب آئے گا جب تو کام آئے گا
ابھی اپنی تمنا کا اجالا ہم نہ بیچیں گے
بھری محفل میں دوراں آج ہم پھر عہد کرتے ہیں
جو ہے انسانیت کی آس وہ پرچم نہ بیچیں گے
اویس احمد دوراں
No comments:
Post a Comment