Monday, 12 December 2016

آپ ہی اپنا سفر دشوار تر میں نے کیا​

آپ ہی اپنا سفر دشوار تر، میں نے کیا​
کیوں ملالِ فرقتِ دیوار و در میں نے کیا​
میرے قد کو ناپنا ہے تو ذرا اس پر نظر​
چوٹیاں اونچی تھیں کتنی جن کو سر میں نے کیا​
چل دیا منزل کی جانب کارواں میرے بغیر​
اپنے ہی شوقِ سفر کو ہمسفر میں نے کیا​
منزلیں دیتی نہ تھیں پہلے مجھے اپنا سراغ​
پھر جنوں میں منزلوں کو رہگزر میں نے کیا​
ہر قدم کتنے ہی دروازے کھلے میرے لیے​
جانے کیا سوچا کہ خود کو دربدر میں نے کیا​
لفظ بھی جس عہد میں کھو بیٹھے اپنا اعتبار​
خامشی کو اس میں کتنا معتبر میں نے کیا​
زندگی ترتیب تو دیتی رہی مجھ کو نسیمؔ​
اپنا شیرازہ مگر خود منتشر میں نے کیا​
نسیم سحر​

No comments:

Post a Comment