اس تواتر سے ہوا ہے بستیوں کا ٹوٹنا
اب خبر بنتا نہیں ہے کچھ گھروں کا ٹوٹنا
زلزلوں کا زندگی سے اک تعلق یہ بھی ہے
منظروں کو کھولتا ہے منظروں کا ٹوٹنا
خواب ہی کی بات ہے لیکن شگون اچھا نہیں
موت سے بڑھ کر تھا، لیکن حادثہ لکھا گیا
ربطِ نا محسوس کے ان سلسلوں کا ٹوٹنا
ایک خلقت جمع تھی احوال لینے کے لیے
جیسے یہ کوئی تماشا تھا، پروں کا ٹوٹنا
شہر کی تعمیر کوئی مسئلہ عظمی نہ تھا
ساتھ میں ہوتا نہ گر ان ہمتوں کا ٹوٹنا
اسلام عظمی
No comments:
Post a Comment