Monday, 12 December 2016

اس تواتر سے ہوا ہے بستیوں کا ٹوٹنا

اس تواتر سے ہوا ہے بستیوں کا ٹوٹنا
اب خبر بنتا نہیں ہے کچھ گھروں کا ٹوٹنا
زلزلوں کا زندگی سے اک تعلق یہ بھی ہے 
منظروں کو کھولتا ہے منظروں کا ٹوٹنا
خواب ہی کی بات ہے لیکن شگون اچھا نہیں 
گرمئ عکسِ دروں سے آئینوں کا ٹوٹنا
موت سے بڑھ کر تھا، لیکن حادثہ لکھا گیا
ربطِ نا محسوس کے ان سلسلوں کا ٹوٹنا
ایک خلقت جمع تھی احوال لینے کے لیے 
جیسے یہ کوئی تماشا تھا، پروں کا ٹوٹنا
شہر کی تعمیر کوئی مسئلہ عظمی نہ تھا
ساتھ میں ہوتا نہ گر ان ہمتوں کا ٹوٹنا

اسلام عظمی

No comments:

Post a Comment