خوشی خوشی سے مرے ساتھ تو چلے موسم
اداس اور پریشاں مگر رہے موسم
کہاں رکے ہیں کسی سے بھی سر پھرے موسم
دھنک مثال فضا میں بکھر گئے موسم
یہ کون شعلہ نفس آیا سُوئے دل زدگاں
امید وارِ بہاراں رہی ہے کشتِ بہار
نصیب اپنا بھی ٹھہریں ہرے بھرے موسم
ہوں من کے اجلے بھی یہ لوگ جو ہیں تن آسودہ
کہاں سے لاؤں، مری جان! وہ کھرے موسم
وہی تماشا دکھائے گی ان کو یہ دنیا
نہ مڑ کے آتے کبھی، جو یہ جانتے موسم
تغیرات سے کوئی نہ بچ سکا عظمیؔ
جو ریگزاروں میں آئے تو جل اٹھے موسم
اسلام عظمی
No comments:
Post a Comment