Monday, 12 December 2016

خوشی خوشی سے مرے ساتھ تو چلے موسم

خوشی خوشی سے مرے ساتھ تو چلے موسم
اداس اور پریشاں مگر رہے موسم
کہاں رکے ہیں کسی سے بھی سر پھرے موسم
دھنک مثال فضا میں بکھر گئے موسم
یہ کون شعلہ نفس آیا سُوئے دل زدگاں
کہ چند لمحوں میں جیسے بدل گئے موسم
امید وارِ بہاراں رہی ہے کشتِ بہار
نصیب اپنا بھی ٹھہریں ہرے بھرے موسم
ہوں من کے اجلے بھی یہ لوگ جو ہیں تن آسودہ
کہاں سے لاؤں، مری جان! وہ کھرے موسم
وہی تماشا دکھائے گی ان کو یہ دنیا
نہ مڑ کے آتے کبھی، جو یہ جانتے موسم
تغیرات سے کوئی نہ بچ سکا عظمیؔ
جو ریگزاروں میں آئے تو جل اٹھے موسم

اسلام عظمی

No comments:

Post a Comment