معلوم ہے وہ مجھ سے خفا ہے بھی نہیں بھی
میرے لیے ہونٹوں پہ دعا ہے بھی نہیں بھی
مدت ہوئی اس راہ سے گزرے ہوئے اس کو
آنکھوں میں وہ نقشِ کفِ پا ہے بھی نہیں بھی
رکھے ہے نظر بزم میں، دیکھے بھی نہیں وہ
یا دل میں کبھی یا کبھی سڑکوں پہ ملیں گے
ہم خانہ خرابوں کا پتا ہے بھی نہیں بھی
وہ موم بھی ہے میرے لیے سنگ بھی آزرؔ
کہتے ہیں کہ اس دل میں وفا ہے بھی نہیں بھی
راشد آزر
No comments:
Post a Comment