Saturday, 24 December 2016

تمہیں شاید نہ ہو اس کا یقین اب تک تمہارے بعد

انا

تمہیں شاید نہ ہو اس کا یقین، اب تک تمہارے بعد
بہت دیکھے ہیں میں نے چہرے، لیکن ایک ہی چہرہ
کچھ ایسا میں نے پایا، جن پہ آنکھیں ٹھیر جاتی ہیں
جبیں اس کی، کہ جیسے اک جہاں کی فکر سمٹی ہے
وہ آنکھیں، جن میں دن بھر کی تھکن سوتی رہی شب بھر
جو جاگی ہیں تو جیسے رات بھر یادوں میں گزری ہے
وہ لب، لبِ راز کہہ دینے کو کھلتے ہیں
وہ چہرہ دل میں لاکھوں دکھ چھپاۓ مسکراتا ہے
میں اب بھی آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہوں

راشد آزر

No comments:

Post a Comment