سمجھ رہا ہے تِری ہر خطا کا حامی مجھے
دِکھا رہا ہے یہ آئینہ مِری خامی مجھے
زماں کی قید ہے کوئی، نہ ہے مکاں کی خبر
کہاں کہاں لیے پھرتی ہے تشنہ کامی مجھے
نہیں کہ جرأتِ اظہارِ عشق مجھ میں نہیں
کوئی نہیں مِرا سامع، اسی میں خوش ہوں
کہ راس آتی بہت میری خود کلامی مجھے
مزا ملا نہ کبھی منزل آشنائی کا
کچھ ایسا کر گئی آوارہ تیز گامی مجھے
حسین چہروں کو تیوری کے بل بگاڑتے ہیں
گراں گزرتی ہے فطرت کی بد نظامی مجھے
میں فرشِ راہ یوں ہی تو نہیں ہوا آزرؔ
نڈھال کر کے رہی اسکی خوش خرامی مجھے
راشد آزر
No comments:
Post a Comment