باز بھی آؤ یاد آنے سے
کیا مِلے گا ہمیں ستانے سے
خونِ دل سے دیے جلائے ہیں
ہو کے گزرو غریب خانے سے
کیسی بے رونقی ہے محفل میں
درِ دل وا کیا تو وہ آئے
کون آتا ہے یوں بلانے سے
تجھ سے بچھڑے تو کب یہ سوچا
اس قدر ہوں گے بے ٹھکانے سے
ہم تو حیران ہیں کہ کیوں ہم پر
ظلم ہے اور ہر بہانے سے
رہنے والا ہی جب نہ ہو آزرؔ
فائدہ کیا ہے گھر سجانے سے
راشد آزر
No comments:
Post a Comment