Saturday, 24 December 2016

باز بھی آؤ یاد آنے سے

باز بھی آؤ یاد آنے سے
کیا مِلے گا ہمیں ستانے سے
خونِ دل سے دیے جلائے ہیں
ہو کے گزرو غریب خانے سے
کیسی بے رونقی ہے محفل میں 
ایک اس کے یہاں نہ آنے سے
درِ دل وا کیا تو وہ آئے
کون آتا ہے یوں بلانے سے
تجھ سے بچھڑے تو کب یہ سوچا
اس قدر ہوں گے بے ٹھکانے سے
ہم تو حیران ہیں کہ کیوں ہم پر 
ظلم ہے اور ہر بہانے سے
رہنے والا ہی جب نہ ہو آزرؔ
فائدہ کیا ہے گھر سجانے سے

راشد آزر

No comments:

Post a Comment