جو سجا رکھتے ہیں چہروں پہ اجالے لوگو
عین ممکن ہےکہ وہ دل کے ہوں کالے لوگو
اس سے کہہ دو مجھے مشکل میں نہ ڈالے لوگو
سامنے سب کے مِرے خط نہ نکالے لوگو
زہر بازار میں اب عام ہی مل جاتا ہے
اب کوئی درد کے جھاڑن سے اتارے ان کو
بے حسی کے ہیں لگے جسموں میں جالے لوگو
ناگہاں موت کے جیسی ہے جدائی اس کی
کون ایسا ہے جو اس ہونی کو ٹالے لوگو
چھائے رہتے ہیں یہاں یاد کے بادل اکثر
روز بھر جاتے ہیں اشکوں سے پیالے لوگو
یہ سخنوَر تو مِری گنتی میں شامل ہی نہیں
ساتھ پھرتے ہو لیے جن کے حوالے لوگو
آج گلیوں میں ہوئی موت کی برسات سحرؔ
بھر گئے خوں سے مِرے شہر کے نالے لوگو
سدرہ سحر عمران
No comments:
Post a Comment