Monday, 12 December 2016

کم سرائے میں خرابات کی جانا کر دیں

کم سراۓ میں خرابات کی جانا کر دیں
ربط اب ختم مکینوں سے پرانا کر دیں
مذہبِ عشق کی تبلیغ کو بلقیسِ سبا
دل سا ہُد ہُد تِری بستی کو روانہ کر دیں
جی میں آتا ہے سمندر میں پٹخ دیں دنیا
عالمِ طیش میں تلپٹ یہ زمانہ کر دیں
کھینچ لیں روح سے آزار، بدن سے وحشت
اور اداسی کا کہیں دور ٹھکانہ کر دیں
وجہِ آزار نہ بن جائے اسی خوف سے اب
اپنی تنہائی سے کم ملنا ملانا کر دیں
خود ہی لکھ آئیں نوِشتہ سرِ دیوار سحرؔ
شہر میں عام خود اپنا ہی فسانہ کر دیں

سدرہ سحر عمران

No comments:

Post a Comment