کم سراۓ میں خرابات کی جانا کر دیں
ربط اب ختم مکینوں سے پرانا کر دیں
مذہبِ عشق کی تبلیغ کو بلقیسِ سبا
دل سا ہُد ہُد تِری بستی کو روانہ کر دیں
جی میں آتا ہے سمندر میں پٹخ دیں دنیا
کھینچ لیں روح سے آزار، بدن سے وحشت
اور اداسی کا کہیں دور ٹھکانہ کر دیں
وجہِ آزار نہ بن جائے اسی خوف سے اب
اپنی تنہائی سے کم ملنا ملانا کر دیں
خود ہی لکھ آئیں نوِشتہ سرِ دیوار سحرؔ
شہر میں عام خود اپنا ہی فسانہ کر دیں
سدرہ سحر عمران
No comments:
Post a Comment