ترکے میں چھوڑے ہوۓ تابوت
جب درخت روشنی سے خالی ہو جاتے ہیں
ہم، شام کے خاکی لفافوں میں
دھوپ سے لکھی ہوئی نظمیں پوسٹ کرتے ہیں
ان آنکھوں کے نام
جن کی کوکھ میں مردہ خوابوں نے جنم لیا
جب عمر کی سیڑھیاں اپنے آپ کو گنتے گنتے
تھک کر بیٹھ جائیں گی
ان چھتوں کی اوٹ میں
جو گھر کے غلط معنی لکھا کرتی تھیں
ہم نچلے درجے کا مکان بن جائیں گے
اور
ایک بے بنیاد زمین کے بدلے میں چھوڑ جائیں گے
شہر کے پانچویں کونے میں رکھا ہوا
مردہ خانہ
سدرہ سحر عمران
No comments:
Post a Comment