غیر قانونی راستوں کی جنت
جبر کے مذہبی تہوار پر
ہمیں کلہاڑیوں کے وار سے
ہلاک کیا جانا تھا
لیکن قتل کی اس شام
بادشاہ کے ہاتھ سے
جلاد مارا گیا
ہمیں بالوں کے بل گھسیٹ کر
درختوں سے باندھنے کے بعد
پرندوں کو ظلم کی زبان
سکھائی گئی
اور ہماری چوکیداری پہ مامور
کر دیا گیا
ہم نے چیونٹیوں کو ورغلا کے
ان کے ہاتھوں سے
آٹے کی بوریاں چھینیں
اور اپنا لعاب ملا کر
سماعتوں کی کھڑکیاں بند کر دیں
ہماری آنکھوں میں بے گھر
مینا اور طوطے نے گھونسلہ بنا لیا
اور کووں کا حاسد قبیلہ
پھر سے ہمارے قتل کے
منصوبے بنانے لگا
ہمیں کافروں کے زانو پر
زندگی کی آخری ہچکی
قبول نہ تھی
اس لئے ہم نے
شریعت کو پھاڑ پھینکا
اور اپنا زہریلا لہو پی کر
خودکشی کر لی
سدرہ سحر عمران
No comments:
Post a Comment