Monday, 12 December 2016

غیر قانونی راستوں کی جنت

غیر قانونی راستوں کی جنت

جبر کے مذہبی تہوار پر 
ہمیں کلہاڑیوں کے وار سے 
ہلاک کیا جانا تھا 
لیکن قتل کی اس شام 
بادشاہ کے ہاتھ سے
جلاد مارا گیا 

ہمیں بالوں کے بل گھسیٹ کر
درختوں سے باندھنے کے بعد 
پرندوں کو ظلم کی زبان
سکھائی گئی 
اور ہماری چوکیداری پہ مامور 
کر دیا گیا 
ہم نے چیونٹیوں کو ورغلا کے 
ان کے ہاتھوں سے 
آٹے کی بوریاں چھینیں
اور اپنا لعاب ملا کر 
سماعتوں کی کھڑکیاں بند کر دیں 
ہماری آنکھوں میں بے گھر 
مینا اور طوطے نے گھونسلہ بنا لیا 
اور کووں کا حاسد قبیلہ 
پھر سے ہمارے قتل کے 
منصوبے بنانے لگا 
ہمیں کافروں کے زانو پر
زندگی کی آخری ہچکی
قبول نہ تھی 
اس لئے ہم نے
شریعت کو پھاڑ پھینکا 
اور اپنا زہریلا لہو پی کر
خودکشی کر لی

سدرہ سحر عمران

No comments:

Post a Comment