Monday, 12 December 2016

اپاہج خواب اور آنکھوں کی بیساکھیاں

اپاہج خواب اور آنکھوں کی بیساکھیاں

لوگ دیواروں سے سیاہی اتار کر
دن کی مخالفت کر سکتے ہیں
باندھ سکتے ہیں ہجر کے گھنگھرو شام کے پیروں میں
مگر
ان درختوں کے ہاتھ نہیں کاٹ سکتے
جن پہ جنگل کی کہانی لکھ کر
مٹا دی گئی ہے

جب مٹی رقص پہ مائل ہوتی ہے
چیزیں اپنی جگہ چھوڑ دیتی ہیں
اور، ہم آسمان کی باتوں میں آ کر
زمین کو بد دعائیں دینے لگتے ہیں
تم ہمارے حصے کی اینٹیں
اپنی آنکھوں میں ڈال کر
کوئی ایسا مکان بنا سکتے ہو؟
جس میں ہمارے خواب قیام کر سکیں
اس رات تک
جو تمہاری آنکھوں سے زیادہ گہری نہیں ہو سکتی

سدرہ سحر عمران

No comments:

Post a Comment