اپاہج خواب اور آنکھوں کی بیساکھیاں
لوگ دیواروں سے سیاہی اتار کر
دن کی مخالفت کر سکتے ہیں
باندھ سکتے ہیں ہجر کے گھنگھرو شام کے پیروں میں
مگر
ان درختوں کے ہاتھ نہیں کاٹ سکتے
جن پہ جنگل کی کہانی لکھ کر
مٹا دی گئی ہے
جب مٹی رقص پہ مائل ہوتی ہے
چیزیں اپنی جگہ چھوڑ دیتی ہیں
اور، ہم آسمان کی باتوں میں آ کر
زمین کو بد دعائیں دینے لگتے ہیں
تم ہمارے حصے کی اینٹیں
اپنی آنکھوں میں ڈال کر
کوئی ایسا مکان بنا سکتے ہو؟
جس میں ہمارے خواب قیام کر سکیں
اس رات تک
جو تمہاری آنکھوں سے زیادہ گہری نہیں ہو سکتی
سدرہ سحر عمران
No comments:
Post a Comment