Friday, 23 December 2016

بے چہرہ

بے چہرہ

دور سے دیکھنا
مجھ کو بس دور سے دیکھنا
مجھ سے اک شخص نے
وقتِ رخصت کہا تھا
میں تعمیل میں
فاصلوں کے تسلسل میں 
ڈھلتا رہا
صَرفِ منظر ہوا
یہ عجب حادثہ ہے
وہی شخص
اب مجھ کو نزدیک سے
دیکھتا ہے
مگر آج
اس اجنبی کی طرح
جس کا اپنا ہی چہرہ
سفر میں کہیں کھو گیا
ایک مدت ہوئی
آخری شہر بھی سو گیا

بلراج کومل

No comments:

Post a Comment