بے چہرہ
دور سے دیکھنا
مجھ کو بس دور سے دیکھنا
مجھ سے اک شخص نے
وقتِ رخصت کہا تھا
میں تعمیل میں
ڈھلتا رہا
صَرفِ منظر ہوا
یہ عجب حادثہ ہے
وہی شخص
اب مجھ کو نزدیک سے
دیکھتا ہے
مگر آج
اس اجنبی کی طرح
جس کا اپنا ہی چہرہ
سفر میں کہیں کھو گیا
ایک مدت ہوئی
آخری شہر بھی سو گیا
بلراج کومل
No comments:
Post a Comment