Friday, 23 December 2016

مہمان​ سیہ پرندے

مہمان​

سیہ پرندے
اگر وہ کوے نہیں تھے تو کیوں
وہ آئے تھے اور منڈیر پر
کائیں کائیں کا راگ
ان کے انداز میں گھڑی بھر الاپ کر آئے مہماں کے
سیلِ امکاں میں 
میرے تنکے بکھیر کر
اڑ گئے کچھ ایسے
کہ لوٹ کر آج تک نہ آئے
جو میرا مہمان تھا
جسے میرے پاس آنا تھا
بھول کر بھی ادھر نہ آیا
برس گزرتے گئے
نہ در پر تھی کوئی دستک نہ کوئی آواز
اپنے گھر میں ہی اپنا مہمان
بن گیا میں

بلراج کومل

No comments:

Post a Comment