Friday, 23 December 2016

موج امکاں

موجِ امکاں

یہ پر سکوں روز و شب، یہ بے کار خواب
یہ منجمد سمندر
غلیظ لمحوں کی سبز کائی
میں اس جزیرے پہ قید ہوں
جس پہ لوگ کہتے ہیں موجِ امکاں گزر چکی ہے

سکوں کی وادیوں میں لیکن
میں آج بھی سن رہا ہوں
لہروں کی حشر انگیز گرم آواز
جب میں ذروں میں ٹوٹ جاؤں گا
موجِ امکاں کا روپ ممکن ہے اور ہو گا

بلراج کومل

No comments:

Post a Comment