کوۓ حرم سے نکلی ہے کوئے بتاں کی راہ
ہائے کہاں پہ آ کے ملی ہے، کہاں کی راہ
صد آسماں بدامن و صد کہکشاں بدوش
بامِ بلندِ یار!! تِرے آستاں کی راہ
ملکِ عدم میں قافلۂ عمر جا بسا
لٹتا رہا ہے ذوقِ نظر گام گام پر
اب کیا رہا ہے پاس جو ہم لیں وہاں کی راہ
اے زلفِ خم بہ خم! تجھے اپنا ہی واسطہ
ہموار ہونے پائے نہ عمرِ رواں کی راہ
گُلہائے رنگ رنگ ہیں، افکارِ نو بہ نو
یہ رہگزارِ شعر ہے کس گلستاں کی راہ
طاہؔر یہ منزلیں، یہ مقامات، یہ حرم
اللہ رے، یہ راہ یہ کوئے بتاں کی راہ
جعفر طاہر
No comments:
Post a Comment