تشنہ لبوں کی نذر کو سوغات چاہیے
تیرے نثار، تھوڑی برسات چاہیے
اتنا بھی میکدے پہ نہ پہرے بٹھائیے
کچھ تو خیالِ اہلِ خرابات چاہیے
آپس کی گفتگو سے کٹنے لگی زباں
کچھ بھی ہو مصلحت کا تقاضا، مگر ندیم
جو دل میں ہو زباں پہ وہی بات چاہیے
طاہرؔ جزائے ہمت عالی ہے زلفِ یار
زلفوں سے کھیلنے کے لیے ہاتھ چاہیے
جعفر طاہر
No comments:
Post a Comment