Thursday, 22 December 2016

تشنہ لبوں کی نذر کو سوغات چاہئے

تشنہ لبوں کی نذر کو سوغات چاہیے
تیرے نثار، تھوڑی برسات چاہیے
اتنا بھی میکدے پہ نہ پہرے بٹھائیے
کچھ تو خیالِ اہلِ خرابات چاہیے
آپس کی گفتگو سے کٹنے لگی زباں
اب دوستوں سے ترکِ ملاقات چاہیے
کچھ بھی ہو مصلحت کا تقاضا، مگر ندیم
جو دل میں ہو زباں پہ وہی بات چاہیے
طاہرؔ جزائے ہمت عالی ہے زلفِ یار
زلفوں سے کھیلنے کے لیے ہاتھ چاہیے

جعفر طاہر

No comments:

Post a Comment