نشے میں چشمِ ناز جو ہنستی نظر پڑی
تصویرِ ہوشیاری و مستی نظر پڑی
لہرائی ایک بار وہ زلفِ خِرد شکار
کوئی نہ پھر بلندی و پستی نظر پڑی
اٹھی تھی پہلی بار جدھر چشمِ آرزو
حسنِ بتاں تو آئینہ حسنِ ذات ہے
زاہد کو اس میں کفر پرستی نظر پڑی
یا رب! کبھی تو بوالہوسوں کو بھی دے سزا
مانا، ہماری جان تو سستی نظر پڑی
سوۓ چمن گئے تھے بہاراں سمجھ کے ہم
دیکھا تو ایک آگ برستی نظر پڑی
کیسی صبا کہاں کی نسیمِ چمن، نہ پوچھ
ناگن سی پھول پھول کو ڈستی نظر پڑی
مدت کے بعد اپنی طرف جو گیا خیال
تم کیا ملے کہ صورتِ ہستی نظر پڑی
شبنم کی بوند بوند نے ہنس ہنس کے جان دی
طاہرؔ کرن کرن بھی ترستی نظر پڑی
جعفر طاہر
No comments:
Post a Comment