تڑپ رہا ہے دلِ نا مراد، مدت سے
ستا رہی ہے مجھے ان کی یاد مدت سے
اذیتوں نے مجھے ہر طرف سے گھیر لیا
ہُوا نہ یہ دلِ ناشاد، شاد مدت سے
ہر ایک بات فراموش کر کے آ جاؤ
یہی ہے وجہ کہ پُرسانِ حال کوئی نہیں
بنا ہُوا ہے دلوں میں تضاد مدت سے
مجھے خیال ہے ہر دم یہ بے حسی ہے مِری
ادا ہوئے نہ حقوق العباد مدت سے
وہ اس طرح سے الگ ہیں کہ جانتے ہی نہیں
کہ جن کو مجھ سے رہا ہے مفاد مدت سے
ہو التفات کا پودا ہرا بھرا کیسے؟
چلی نہ پیار محبت کی باد مدت سے
غزل سرائی تو جاری ہے دشت میں لیکن
نہ آئی کان میں آوازِ داد، مدت سے
جناب یاؔس جو پڑھتے ہیں شعر محفل میں
سبھی خلوص سے دیتے ہیں داد مدت سے
یاس چاند پوری
No comments:
Post a Comment