پھر وہی قتل محبت زدگاں ہے کہ جو تھا
رسن و دار کا عالم میں سماں ہے کہ جو تھا
ان کے ہاتھوں میں وہی تیغِ ستم ہے کہ جو تھی
دہرِ ماتم کدۂ بے گنہاں ہے کہ جو تھا
چشمِ پُر خون وفا لالہ نشاں ہے کہ جو تھی
حیرتِ اہل نظر، اہلِ ہنر ہے کہ جو تھی
شہرۂ کم نظراں، بے ہنراں ہے کہ جو تھا
ہے وہی آج بھی رنگ و روشِ رودِ فرات
ہر نفس ماتمئ تشنہ لباں ہے کہ جو تھا
جلوۂ یار سے محروم ہے غم خانۂ دل
یہ وہی تیرہ و تاریک مکاں ہے کہ جو تھا
وقت کے ساتھ بدلتا نہیں جعفر طاہر
یہ وہی سوختہ دل سوختہ جاں ہے کہ جو تھا
جعفر طاہر
No comments:
Post a Comment