شعور و علم و حکمت کے خزانے بیچ دیتے ہیں
یہاں تو بھوکے بچے اپنے بستے بیچ دیتے ہیں
ہمیں اس شہر میں عزت سے جینے کی تمنا ہے
جہاں غربت کے ہاتھوں لوگ بچے بیچ دیتے ہیں
یہاں ناموں کا محفوظ رہنا غیر ممکن ہے
کھلاڑی میچ کا سودا سرِ میداں نہیں کرتے
اسے میدان میں آنے سے پہلے بیچ دیتے ہیں
ہمیں نیندیں میسر تو نہیں آتی ہیں،۔ لیکن ہم
مناسب دام لگ جانے پہ سپنے بیچ دیتے ہیں
تمہیں دستار کی خواہش تو ہے، پر سوچ لینا تم
یہاں کے حکمراں لوگوں کے شملے بیچ دیتے ہیں
کاشف کمال
No comments:
Post a Comment