جتاتے رہتے ہیں یہ حادثے زمانے کے
کہ تنکے جمع کریں پھر نہ آشیانے کے
ہزاروں عشقِ جنوں خیز کے بنے قصے
ورق ہوۓ جو پریشاں مِرے فسانے کے
قرارِ جلوہ نمائی ہوا ہے فردا پر
یہ طول دیکھیۓ اک مختصر زمانے کے
نہ پھول مرغِ چمن! اپنی خوشنوائی پر
جواب ہیں مِرے نالے، تِرے ترانے کے
اسی کی خاک ہے ماتھے کی زیب بندہ نواز
جبیں پہ نقش پڑے ہیں جس آستانے کے
سائل دہلوی
No comments:
Post a Comment