یہ تو صدیوں کے جہانوں کی کڑی ہوتی ہیں
بڑے انسانوں کی یادیں بھی بڑی ہوتی ہیں
زندہ گھر ہوتے ہیں زندہ ہی لہو پر تعمیر
یوں تو مقتل میں بھی دیواریں کھڑی ہوتی ہیں
شیشہ گر کارگہِ شیشہ سے لاتے بھی ہیں کیا
جھولیاں الٹیں تو احوالِ گدایاں ہوا فاش
کوڑیاں چوبِ عصا ہی میں جڑی ہوتی ہیں
کیوں نچھاور نہ ہوں دل میرے ادب پاروں پر
سچی تحریریں تو موتی کی لڑی ہوتی ہیں
محشؔر اب ویسی کہاں راہِ صبا، راہِ قرار
آہٹیں سی کہیں دو چار گھڑی ہوتی ہیں
محشر بدایونی
No comments:
Post a Comment