Sunday, 11 December 2016

یہ تو صدیوں کے جہانوں کی کڑی ہوتی ہیں

یہ تو صدیوں کے جہانوں کی کڑی ہوتی ہیں
بڑے انسانوں کی یادیں بھی بڑی ہوتی ہیں
زندہ گھر ہوتے ہیں زندہ ہی لہو پر تعمیر
یوں تو مقتل میں بھی دیواریں کھڑی ہوتی ہیں
شیشہ گر کارگہِ شیشہ سے لاتے بھی ہیں کیا
خالی ہاتھوں میں خراشیں ہی پڑی ہوتی ہیں
جھولیاں الٹیں تو احوالِ گدایاں ہوا فاش
کوڑیاں چوبِ عصا ہی میں جڑی ہوتی ہیں
کیوں نچھاور نہ ہوں دل میرے ادب پاروں پر
سچی تحریریں تو موتی کی لڑی ہوتی ہیں
محشؔر اب ویسی کہاں راہِ صبا، راہِ قرار
آہٹیں سی کہیں دو چار گھڑی ہوتی ہیں

محشر بدایونی

No comments:

Post a Comment