Friday, 9 December 2016

درد دیکھیں نہ اب دوا دیکھیں

درد دیکھیں نہ اب دوا دیکھیں
مرنے والوں کا حوصلہ دیکھیں
کچھ نہیں عشق میں بعید میاں
روشنی چھوئیں اور ہوا دیکھیں
جب نہ دیکھا اسے تو کیا دیکھا
دیکھ کر اس کو اور کیا دیکھیں
جو نہ دیکھا تھا، وہ بھی دیکھ لِیا
اب دکھاتا ہے کیا خدا، دیکھیں
ہم میں کوئی مشابہت بھی ہے
آئیے مِل کے آئینہ دیکھیں
یہ محبت تو شے ہی ایسی ہے
آپ بھی اپنا فائدہ دیکھیں
میں پلٹ جاؤں اپنے گھر کی طرف
آپ بھی اپنا راستہ دیکھیں
کیا کھلے ان پہ عشق، جو سیفیؔ
شہر سے دشت کو جدا دیکھیں

منیر سیفی

No comments:

Post a Comment