درد دیکھیں نہ اب دوا دیکھیں
مرنے والوں کا حوصلہ دیکھیں
کچھ نہیں عشق میں بعید میاں
روشنی چھوئیں اور ہوا دیکھیں
جب نہ دیکھا اسے تو کیا دیکھا
جو نہ دیکھا تھا، وہ بھی دیکھ لِیا
اب دکھاتا ہے کیا خدا، دیکھیں
ہم میں کوئی مشابہت بھی ہے
آئیے مِل کے آئینہ دیکھیں
یہ محبت تو شے ہی ایسی ہے
آپ بھی اپنا فائدہ دیکھیں
میں پلٹ جاؤں اپنے گھر کی طرف
آپ بھی اپنا راستہ دیکھیں
کیا کھلے ان پہ عشق، جو سیفیؔ
شہر سے دشت کو جدا دیکھیں
منیر سیفی
No comments:
Post a Comment