میں روز روز دریچے کہاں بناؤں گا
سو اب کی بار گِرا کر مکاں بناؤں گا
کوئ جزیرہ بهی میرے سفر کا انت نہیں
جلا چکا ہوں تو پهر کشتیاں بناؤں گا
نئی زمین بنا لی ہے میں نے اپنے لیے
میں اپنے آپ کو محدود بھی کروں گا اگر
تو آشیانہ نہیں،۔ گلستاں بناؤں گا
سنبھال رکھی ہیں دامن کی دھجیاں میں نے
اگست آیا تو پھر جھنڈیاں بناؤں گا
انجم خیالی
No comments:
Post a Comment