Friday, 9 December 2016

میں روز روز دریچے کہاں بناؤں گا

میں روز روز دریچے کہاں بناؤں گا
سو اب کی بار گِرا کر مکاں بناؤں گا
کوئ جزیرہ بهی میرے سفر کا انت نہیں
جلا چکا ہوں تو پهر کشتیاں بناؤں گا
نئی زمین بنا لی ہے میں نے اپنے لیے
اب اس زمیں کے لیے آشیاں بناؤں گا
میں اپنے آپ کو محدود بھی کروں گا اگر
تو آشیانہ نہیں،۔ گلستاں بناؤں گا
سنبھال رکھی ہیں دامن کی دھجیاں میں نے
اگست آیا تو پھر جھنڈیاں بناؤں گا

انجم خیالی

No comments:

Post a Comment