اس کو نغموں میں سمیٹوں تو بُکا جانے ہے
گر یہ شب کو جو نغمے کی صدا جانے ہے
میں تِری آنکھوں میں اپنے لیے کیا کیا ڈھونڈوں
تُو مِرے درد کو، کچھ مجھ سے سوا جانے ہے
اس کو رہنے دو مِرے زخموں کا مرہم بن کر
میری محرومئ فرقت سے اسے کیا لینا
وہ تو آہوں کو بھی مانندِ صبا جانے ہے
ایک ہی دن میں تِرے شہر کی مسموم فضا
میرے پیراہنِ سادہ کو ریا جانے ہے
میں کبھی تیرے دریچے میں کھِلا پھول بھی تھا
آج کیا ہوں، تِرے گلشن کی ہوا جانے ہے
مجھ سے کہتا ہے مِرا شوخ کہ اقبال متینؔ
تم رہے را ت کہاں، یہ تو خدا جانے ہے
اقبال متین
No comments:
Post a Comment