پھر مزاج اس رِند کا کیوں کر ملے
جس کو اس کے ہاتھ سے ساغر ملے
وصل ہے سر جوشِ صہباۓ فنا
پھر اگر کوئی ملے کیوں کر ملے
کچھ نہ پوچھو کیسی نفرت ہم سے ہے
ظاہر و مظہر میں فرق ایسا نہیں
پیر ہاتھ آیا،۔۔ تو پیغمبر ملے
میری آنکھیں اور اُس کی خاک پا
تیرے کوچے کا اگر رہبر ملے
کعبہ، بت خانہ، کلیسا، صومعہ
پھرتے ہیں در در کہ تیرا گھر ملے
کس قدر ٹھہرا بلند ان کا مقام
مل گیا مولا جسے حیدؓر ملے
ملنے کے پہلے فنا ہونا ضرور
پھر فنا جو ہو گیا کیوں کر ملے
آسیِؔ گریاں ملا محبوب سے
گل سے شبنم جس طرح رو کر ملے
آسی غازی پوری
No comments:
Post a Comment