ہزاروں طاق سجے سینکڑوں چراغ جلے
ہماری رات کے سائے مگر ذرا نہ ڈھلے
تمام عمر گزاری ہوس کے سائے میں
اجل کا وقت جو آیا تو ہم نے ہاتھ ملے
بتوں کے در سے عطا ہو جو عزت و حشمت
حرم کے حق میں ہیں وہ مارِ آستیں عامر
دل و دماغ جو بچپن سے میکدے میں پلے
عامر عثمانی
No comments:
Post a Comment