Monday, 5 December 2016

ہزاروں طاق سجے سینکڑوں چراغ جلے

ہزاروں طاق سجے سینکڑوں چراغ جلے
ہماری رات کے سائے مگر ذرا نہ ڈھلے
تمام عمر گزاری ہوس کے سائے میں
اجل کا وقت جو آیا تو ہم نے ہاتھ ملے
بتوں کے در سے عطا ہو جو عزت و حشمت
ہم ایسی عزت و حشمت سے دور دور چلے
حرم کے حق میں ہیں وہ مارِ آستیں عامر
دل و دماغ جو بچپن سے میکدے میں پلے

عامر عثمانی

No comments:

Post a Comment