نہ سکت ہے ضبطِ غم کی، نہ مجالِ اشکباری
یہ عجیب کیفیت ہے،نہ سکوں نہ بے قراری
یہ قدم قدم بلائیں،۔ یہ سوادِ کوئے جاناں
وہ یہیں سے لوٹ جائے، جسے زندگی ہو پیاری
میری آنکھ منتظر ہے، کسی اور صبحِِ نو کی
وہی پھول چاک دامن، وہی رنگِ اہلِ گلشن
ابھی صرف یہ ہوا ہے کہ بدل گئے شکاری
تیرے جاں فراز وعدے، مجھے کب فریب دیتے
تیرے کام آ گئی ہے، میری زود اعتباری
تیرا ایک ہی کرم ہے، تیرے ہر ستم پہ بھاری
غمِ دوجہاں سے تُو نے مجھے بخشی رُستگاری
جو غنی ہو ما سِوا سے، وہ گدا، گدا نہیں ہے
جو اسیرِ ما سِوا ہے، وہ غنی بھی ہے بھکاری
عامر عثمانی
No comments:
Post a Comment