وہاں پہنچ کے یہ کہنا صبا سلام کے بعد
کہ تیرے نام کی رٹ ہے خدا نام کے بعد
شبِ وصال بیانِ غم جدائی کیا
فضول ہے گلۂ زخم التیام کے بعد
وہاں بھی وعدۂ دیدار اس طرح ٹالا
گناہگار کی سن لو تو صاف صاف یہ ہے
کہ لطفِ رحم و کرم کیا پھر انتقام کے بعد
طلب تمام ہو مطلوب کی اگر حد ہو
لگا ہوا ہے یہاں کوچ ہر مقام کے بعد
وہ خط وہ چہرہ وہ زلفِ سیاہ تو دیکھو
کہ شام صبح کے بعد آئی صبح شام کے بعد
پیام بر کو روانہ کیا تو رشک آیا
نہ ہمکلام ہو اس سے مرے کلام کے بعد
ابھی تو دیکھتے ہیں ظرف بادہ خواروں کا
سبو و خم کی بھی ٹھہرے گی دورِ جام کے بعد
الہٰی آسیِؔ بے تاب کس سے چھوٹا ہے
کہ خط میں روزِ قیامت لکھا ہے نام کے بعد
آسی غازی پوری
No comments:
Post a Comment