Monday, 5 December 2016

وہاں پہنچ کے یہ کہنا صبا سلام کے بعد

وہاں پہنچ کے یہ کہنا صبا سلام کے بعد
کہ تیرے نام کی رٹ ہے خدا نام کے بعد
شبِ وصال بیانِ غم جدائی کیا
فضول ہے گلۂ زخم التیام کے بعد
وہاں بھی وعدۂ دیدار اس طرح ٹالا
کہ خاص لوگ طلب ہونگے بارِ عام کے بعد
گناہگار کی سن لو تو صاف صاف یہ ہے
کہ لطفِ رحم و کرم کیا پھر انتقام کے بعد
طلب تمام ہو مطلوب کی اگر حد ہو
لگا ہوا ہے یہاں کوچ ہر مقام کے بعد
وہ خط وہ چہرہ وہ زلفِ سیاہ تو دیکھو
کہ شام صبح کے بعد آئی صبح شام کے بعد
پیام بر کو روانہ کیا تو رشک آیا
نہ ہمکلام ہو اس سے مرے کلام کے بعد
ابھی تو دیکھتے ہیں ظرف بادہ خواروں کا
سبو و خم کی بھی ٹھہرے گی دورِ جام کے بعد
الہٰی آسیِؔ بے تاب کس سے چھوٹا ہے
کہ خط میں روزِ قیامت لکھا ہے نام کے بعد

آسی غازی پوری

No comments:

Post a Comment